بہت دیر سے ہوا ہے
یہ احساس
کہ اسے تو
احساس ہی نہیں
عمر بھر کا ہے
جس کا ساتھ
ساتھ تو ہے
مگر پاس نہیں
جانے کیا ڈھونڈتاپھرتا ہے
دنیا کے ریگزاروں میں
سنگ تراش تو ہے
گوہر شناس نہیں
ہیں جو ہمارے تمدن کی
درخشاں مثالیں
رنگ اُس میں وہ نہیں
وہ بو باس نہیں
لوٹے گا کبھی وہ
مان کر اپنی خطائیں
سوچتی تو ہوں
مگر ایسی کوئی امید
کوئی آس نہیں
فرمایا میرے *مالک* نے
ہیں دونوں
اک دوسرے کا لباس
میں اس کا لباس ہوں
وہ میرا لباس نہیں
اسماء. بتول