میں اپنے شاعر سے ملتمس ہوں
مجھے بھی نظموں کا گیان بخشے
مجھے بھی سارے حسین مصرعے
قلم سے نظموں میں ڈھالنے ہیں
خیال کو کس طرح اتاروں؟
کہاں پہ لکھوں میں شدتیں اور
وہ کیفیت جو!!
مری ہو اُس پل!!
کہ جس گھڑی وہ قریب آئے۔۔
میں اپنے شاعر سے ملتمس ہوں
مجھے بتائے!!!
قلم کو پکڑے کیا اپنی نتھلی گھما کے اس کا خیال دل میں جگا کے لکھوں؟
کیا اپنی آنکھوں سے ڈھلتے سورج
کا پیارا منظر چرا کے لکھوں؟
یا چاند جب بھی تمہارے چہرے کی چھب دکھا کے
مجھے ستائے تو نظم کہہ دوں؟
میں ملتجی ہوں!
کہ نظم کہتے
تمہاری یادوں کا شوخ جھونکا
نگر میں دل کے رباب سا کوئی ساز چھیڑے
تو نظم کہہ دوں؟
مگر وہ بت تو نہ جانے کب سے
مجھے ہی نظموں میں ڈھالنے کی لگن میں گم ہے..
میں کیسے نظموں کا گیان سیکھوں
کہ میرا شاعر!
مرے تصور میں
پینگ لفظوں کی جھولتا ہے
مجھے خیالوں میں نظم کر کے
ہر ایک مصرعے پہ داد سب سے وصولتا ہے
ادھر میں آدھی ادھوری نظمیں ورق پہ تھامے کھڑی ہوئی ہوں
امید لے کر
کہ کب مجھے بھی یہ پیارا شاعر
ہنر سکھائے!!
کہ اس کے سوھنے حسین چہرے
کو نظم کرنے کو کیا کروں میں؟
وہی نرالا ہنر جو اس کی تمام نظموں میں جا بجا ہے
مگر ابھی تو خیال سارے، سوال سارے،
وہ موضوعاتِ حیات سارے
میں جن کو اپنے قلم سے لکھنے کی منتظر ہوں
ورق پہ دل کے
بے ربط حالت میں الٹے سیدھے پڑے ہوئے ہیں
تبھی تو ان کو سنوارنے کو ،ورق پہ سارے اتارنے کو میں مضطرب ہوں
تو میرے شاعر
مجھے بھی نظموں کا گیان دے دے
جو اپنے جذبوں کو نظم جیسی حسین تسبیح میں پرو کے
تجھے سناؤں۔۔۔
سناتی جاؤں
میں منتظر ہوں
کہ میرا شاعر
مجھے بھی نظموں کا گیان بخشے
فارحہ نوید