دست ربّ قدیر کی جانب

دست ربّ قدیر کی جانب
چلئے اپنے امیر کی جانب

جب بیاں کیجے معنئ مولا
دیکھ لیجے ضمیر کی جانب

آرہا ہے فلک سے ہنستا ہوا
ایک پتھر شریر کی جانب

لو بچھاتا ہوں جانمازِ وِلا
رُخ کیا ہے غدیر کی جانب

رزمِ خیبر سے دیکھتے ہیں رسول
سوئے طیبہ نصیر کی جانب

کھینچ لیتا ہے تارِ اشکِ عزا
ہم کو اجرِ کثیر کی جانب

اے لسانِ علی و عینِ عظیم
اک نظر اس فقیر کی جانب

اک نگاہِ کرم حسینِ کریم
اپنے برّ صغیرکی جانب

کیسے ہوتے ہیں پیشوائے سخن
دیکھ انیس و دبیر کی جانب

عارف امام

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے