دوستی میں حِساب کی باتیں ؟

دوستی میں حِساب کی باتیں ؟
واہ عالی جناب کی باتیں

اتنا آسان تو نہیں ہے نا
بھُول جانا جناب کی باتیں

جو نہ رکھتے ہوں کوئی ذوق و شَوق
اُن سے کیا ہوں کتاب کی باتیں

رہنے بھی دیجئے ، نہ کیجے اب
گیت ، خوشبو ، شباب کی باتیں

جو پھنسے ہوں گُناہ کی دَلدَل میں
کیا ہوں اُن سے ثواب کی باتیں

وہ نہ سمجھے ہیں اور نہ سمجھیں گے
اُس خُدا کے عِتاب کی باتیں

رِند کرتے ہیں کیوں سدا “شہناز“
بس شراب و کباب کی باتیں

 شہناز رضوی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی