فرض اپنا وہ نبھانے آئے

فرض اپنا وہ نبھانے آئے
میرے دل کو وہ جلانے آئے

آئے ہنستوں کو رُلانے آئے
سر پہ طُوفان اُٹھانے آئے

میں پہُنچ جاؤں نہ اُن تک ، یوں وہ
نقشِ پا اپنے مِٹانے آئے

دل کی دُنیا تہہ و بالا کر کے
اب مِرا سوگ منانے آئے

آیا برسات کا موسم پھِر سے
یاد پھِر زخم پُرانے آئے

چُٹکیوں میں ہی مِری جاں دیکھو
خاک میری وہ اُڑانے آئے

قبر میں دیکھئے “ شہناز” مُجھے
میرے اپنے ہی دبانے آئے

 شہناز رضوی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی