دن ہی ڈھلتا نہ شب گزرتی ہے

دن ہی ڈھلتا نہ شب گزرتی ہے
ہم پہ حالت عجب گزرتی ہے

میر و مجنوں کے دور میں کب تھی؟
وہ مصیبت جو اب گزرتی ہے

منتظر ہیں کہ یہ سوارٸ مرگ
اِس محلے سے کب گزرتی ہے؟

باغِ اسباب کے احاطے سے
صرصرِ بے سبب گزرتی ہے

جس قیامت کا تھا بیاں کم کم
اِن دنوں سب کی سب گزرتی ہے

ھاتھ دھوئیں شراب سے کہ پئیں
بے بسی پُر غضب گزرتی ہے

ابنِ آدم ابھی نہ چل کہ ابھی
اجَلِ بے نسب گزرتی ہے

عارف امام

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل