دل کو کر دیتا ہے تسخیر

دل کو کر دیتا ہے تسخیر سمجھتا ہوں میں
عشق کو پاؤں کی زنجیر سمجھتا ہوں میں

اب مرے خواب میں آنے کی اجازت ہے تمہیں
اب تو ہر خواب کی تعبیر سمجھتا ہوں میں

روح اب تک ہے معطر گُلِ تازہ کی طرح
عشق کو مُشکِ ابد گیر سمجھتا ہوں میں

تو اگر مجھ کو پکارے تو ٹھہرتا ہی نہیں
ایک لمحے کو بھی تاخیر سمجھتا ہوں میں

عدنان اثر

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے