دل کی آنکھوں سے

دل کی آنکھوں سے نکلتے ہیں جو کم کم آنسو
جسم کی آنکھ میں آ جائیں نہ یک دم آنسو

کیسے پانی پہ کوئی ریت سے بن پائے گا گھر
کیسے مسکان سے کر پائیں گے سنگم آنسو

جیسے ساون میں کبھی ٹوٹ کے بادل برسے
یوں برستے ہیں مری آنکھ سے چھم چھم آنسو

میں نے اجداد سے میراث میں پایا کیا ہے
چار چھ نوحے بہت درد ترا غم آنسو

عاجز کمال رانا

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا