آیا ہوں ترے خواب کنارے پہ لگا کر

آیا ہوں ترے خواب کنارے پہ لگا کر
طوفان سے تعبیر کی کشتی کو بچا کر

جینے کا مزہ تجھ کو بھی آ جائے گا لیکن
جو تجھ سے دغا کرتے ہیں تو ان سے وفا کر

گاؤں کی روایت کو رکھا قائم و دائم
اس شہر میں ہر موڑ پہ اک پیڑ لگا کر

اس شہر کی گلیاں بھی مجھے کہتی ہیں عاجز
لے جائے ہمیں اس کے محلے میں اٹھا کر

عاجز کمال رانا

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر