دیکھنا اعصاب وہ اک شخص

دیکھنا اعصاب وہ اک شخص شل کر جائے گا
جو یہاں آیا ہے آخر ہاتھ مل کر جائے گا

شک ذرا بھی اس کی دانائی پہ کرنا ہے مُحال
مسئلہ ہو جس قدر گھمبیر حل کر جائے گا

تب حقیقت مان کے اس کی طرف دوڑوں گا، جب
وہ رسائی کی حدوں سے بھی نکل کر جائے گا

آئے گا زہنوں میں ایسے جس طرح کوئی بہار
وہ سراپا حسن ہے شعروں میں ڈھل کر جائے گا

آستانِ حسن پر لاؤ مریضِ عشق کو
کھاٹ پر آئے گا یہ، قدموں پہ چل کر جائے گا

ہم نے وہ پودا لگایا ہے وفا کے باغ میں
لوگ دیکھیں گے کہ یہ اک روز پھل کر جائے گا

اب کھلا (جا کر گلی میں) زخم بٹتے ہیں رشیدؔ
جو بھی اس کوچے میں اب جائے، سنبھل کر جائے گا

رشید حسرتؔ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا