دید کا تمنائی

تیری باتوں میں زندگی کا رس
تیری آواز میں ہے رعنائی
فون پر بولتی ہوئی محبوب
تو ابھی سامنے نہیں آئی
دل تجھے دیکھنے کو کہتا ہے
دل تری دید کا تمنائی
اک طرف عاشقی سے ہم مجبور
اک طرف ہم کو خوف رسوائی
صبر کا حوصلہ نہیں باقی
سن بیکار ، جان زیبائی
ہم نے ما نا ، تو خوبصورت ہے
دیکھ ہم کو تیری ضرورت ہے

ابن انشاء

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں