دائروں کا سفر

دائروں کا سفر

ہم لوگ
دائروں میں چلتے ہیں
دائروں میں چلنے سے
دائرے تو بڑھتے ہیں
فاصلے نہیں گھٹتے
آرزوئیں چلتی ہیں
جس طرف کو جاتے ہیں
منزلیں تمنّا کی
ساتھ ساتھ چلتی ہیں
گرد اُڑتی رہتی ہے
درد بڑھتا جاتا ہے
راستے نہیں گھٹتے

امجد اسلام امجد

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے