دشت میں دِکھتا آب تھوڑی ہیں

دشت میں دِکھتا آب تھوڑی ہیں

آدمی ہیں سَرَاب تھوڑی ہیں

چار بدنامیاں ہیں ماتھے پر

ہم مکمل خراب تھوڑی ہیں

پیار ممکن نہیں ہے جیتے جی

ہم کو دیگر عذاب تھوڑی ہیں

ایک جھٹکے سے ہم بکھر جاٸیں

تیری آنکھوں کا خواب تھوڑی ہیں

عشق پاگل ہمیں بناٸے کیوں

ہم اُسے دستیاب تھوڑی ہیں

 

ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا