درد کے گہرے سناٹے میں

درد کے گہرے سناٹے میں

قریۂ جاں کے

بند کواڑ پہ دستک دے کر

ہلکی سی سرگوشی کر کے

کوئی تو پوچھے

اب تک زندہ رہنے والو

ہجر کے گہرے سناٹوں میں

اپنے آپ سے بچھڑے لوگو

کیسے زندہ رہ لیتے ہو

آسناتھ کنول

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے