درد کے گہرے سناٹے میں

درد کے گہرے سناٹے میں

قریۂ جاں کے

بند کواڑ پہ دستک دے کر

ہلکی سی سرگوشی کر کے

کوئی تو پوچھے

اب تک زندہ رہنے والو

ہجر کے گہرے سناٹوں میں

اپنے آپ سے بچھڑے لوگو

کیسے زندہ رہ لیتے ہو

آسناتھ کنول

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا