دامن گل میں کہیں خار چھپا دیکھتے ہیں

دامن گل میں کہیں خار چھپا دیکھتے ہیں

آپ اچھا نہیں کرتے کہ برا دیکھتے ہیں

ہم سے وہ پوچھ رہے ہیں کہ کہاں ہے اور ہم

جس طرف آنکھ اٹھاتے ہیں خدا دیکھتے ہیں

کچھ نہیں ہے کہ جو ہے وہ بھی نہیں ہے موجود

ہم جو یوں محو تماشا ہیں تو کیا دیکھتے ہیں

لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص ہے خوشبو جیسا

ساتھ شاید اسے لے آئے ہوا دیکھتے ہیں

زاویہ دھوپ نے کچھ ایسا بنایا ہے کہ ہم

سائے کو جسم کی جنبش سے جدا دیکھتے ہیں

اس قدر تازگی رکھی ہے نظر میں ہم نے

کوئی منظر ہو پرانا تو نیا دیکھتے ہیں

اب کہیں شہر میں عاصمؔ ہے نہ غالبؔ کوئی

کس کے گھر جائے یہ سیلاب بلا دیکھتے ہیں

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے