داستاں میں آج شب اک ایسا منظر آگیا

داستاں میں آج شب اک ایسا منظر آگیا
سن کے جس کو میں اچانک لوٹ کر گھر آگیا

قید کر کے گھر کے اندر اپنی تنہائی کو میں
مسکراتا گنگناتا گھر سے باہر آگیا

مستقل میرے تعاقب میں تھی شب زادوں کی فوج
میں بھی پھر میدان میں سورج اٹھا کر آگیا

جل چکے جب رات کے بستر پہ خوابوں کے بدن
اجڑی تعبیروں کا غم آنکھوں کے اندر آگیا

میری راہِ جستجو میں یوں ہوا اکثر نبیلؔ
ایک دریا سر کیا تھا اک سمندر آگیا

عزیز نبیل

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا