ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے

ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے
اداسی خوب رونا چاہتی ہے

مجھے اک پل کی یکسوئی عطا ہو
غزل تخلیق ہونا چاہتی ہے

ان آنکھوں کی کہانی ہے بس اتنی
نظر آواز ہونا چاہتی ہے

تمہارے حسن کے حیرت کدے میں
مری بینائی کھونا چاہتی ہے

کسی کی یاد کی خاموش بارش
مرے سب زخم دھونا چاہتی ہے

وہی معصوم سی بچپن کی حسرت
بہلنے کو کھلونا چاہتی ہے

اداسی تھک چکی ہے روتے روتے
ذرا سی دیر سونا چاہتی ہے

عزیز نبیل

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان