چہرے کو ترے تکتے ہوۓ جھوم رہی ہوں
مدت سے ترے چاک پہ میں گھوم رہی ہوں
تقدیر کہوں اس کو یا ہے چال تری یہ
میں پھول ہوں کانٹوں کو مگر چوم رہی ہوں
ملتا نہ اگر درد تو میں جانتی کیسے
چوکھٹ پہ تری زندگی معصوم رہی ہوں
کیسا ہے اثر پانی کی ہر بوند میں جب کے
برسات ترے بعد میں مشروم رہی ہوں
کیسے یہ کہوں تجھ سے مگر بات یہ سچ ہے
چاہت سے تری آج بھی محروم رہی ہوں
روشن رکھا ماں باپ کے اطوار نے پھر بھی
اس چاند کے آگے میں ہی معدوم رہی ہوں
ہوکر یہ فنا دیکھ لیا میں نے محبت
میں تیرے لیے لازم و ملزوم رہی ہوں
منسوب ہوں میں تجھ سے مگر یاد رہے یہ
اس گھر کی محبت میں ہی مقسوم رہی ہوں
کہتی ہیں مقدر کی لکیریں بھی یہی شاز
عورت ہوں محبت کی میں مخدوم رہی ہوں
شاز ملک