اُداسی دل میں بساۓ

اُداسی دل میں بساۓ بڑی اداس ہے شام
کوئی تو آئے منائے بڑی اداس ہے شام

کیاہے دل کو محبت کے درد نے ہی نحیف
کوئی غزل وہ سناۓ بڑی اداس ہے شام

کیا ہے قتلِ وفا اس نے تو اسی سے کہو
نہ یوں وہ اشک بہاۓ بڑی اداس ہے شام

میں جانتی ہوں ستم گر ہے بے وفا لیکن
ملن کا نغمہ سناۓ بڑی اداس ہے شام

عطا کیے ہیں جو رنج و الم مجھے تو نے
کوئی تجھے بھی دکھائے بڑی اداس ہے شام

عجب گھٹن ہے عجب تیرگی ہے چاروں طرف
چراغ کوئی جلاۓ بڑی اداس ہے شام

وہ جس کے دم سے مہکتی تھی شاز یہ دنیا
دعا کرو کے وہ آئے بڑی اداس ہے شام

شاز ملک

[box type=”info” align=”aligncenter” class=”” width=””]یہ غزل سنیں[/box]

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی