چاندنی بن کے جب اُس چاند کا سایہ نکلے

چاندنی بن کے جب اُس چاند کا سایہ نکلے
گُلشنِ جاں سے مرے خوشبو کا جھونکا نکلے
بند ہوں پلکیں تو احساس کی خوشبو جاگے
اور وا ہوں تو تصوّر کا کرشمہ نکلے
تیرے آتے ہی اندھیروں سے اُجالے جاگیں
تیرے جاتے ہی اُجالوں سے اندھیرا نکلے
کانپتا ہے مرے ہاتھوں پہ ترے ہاتھ کا لمس
پھر یقیں پر وہی انداز گماں کا نکلے
میں ہوں بجھتے ہوئے سورج کی کوئی زرد لکیر
جاگے تو دن ڈھلے سوئے تو اندھیرا نکلے
اپنے ہی ہاتھوں کہاں تک یونہی مرتی رہوں میں
اپنے ہی کندھوں پہ کب تک یہ جنازہ نکلے
کوئی اندھا، کوئی بہرا، کوئی گونگا ناہید
صنم اِس خانۂ دل کے مرے کیا کیا نکلے

ناہید ورک

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا