چاند کا قرض

ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں

ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی

اور اپنا اپنا بین ہوئے

ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے

میں نے موت کے بال کھولے

اور جھوٹ پہ دراز ہوئی

نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی

شام دوغلے رنگ سہتی رہی

آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے

میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں

جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں

زمینوں میں میرا انسان دفن ہے

سجدوں سے سر اٹھا لو

موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے

سارا شگفتہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے