چار شعر

اپنے پروں کے امن کی نازک پناہ میں
بندوق کیا چلی کہ کبوتر سمٹ گئے

جنگل منافقت کے سروں سے بلند تھے
سچ کے گلاب رُوح کے اندر سمٹ گئے

وہ شاخِ گُل ہوں جس کی رگِ جاں کو دیکھ کر
موسم کی آستینوں میں خنجر سمٹ گئے

کچھ اس قدر تھے نرم، حیا دار اُس کے لب
سوچوں میں میری سانس کو چھو کر سمٹ گئے

ایوب خاور 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا