چاند نکلے کسی جانب

چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا
رنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کا

دولت لب سے پھر اے خسرو شیریں دہناں
آج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کا

گرمئی رشک سے ہر انجمن گل بدناں
تذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کا

صحن گلشن میں کبھی اے شہ شمشاد قداں
پھر نظر آئے سلیقہ تری رعنائی کا

ایک بار اور مسیحائے دل دل زدگاں
کوئی وعدہ کوئی اقرار مسیحائی کا

دیدہ و دل کو سنبھالو کہ سر شام فراق
ساز و سامان بہم پہنچا ہے رسوائی کا

 

فیض احمد فیض

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا