بس گزارش یہی ہے خوابوں سے

بس گزارش یہی ہے خوابوں سے
دور ہو جائیں میری آنکھوں سے

نظم صحرا کی ناخدا سے سنی
گیت ساحل کا ساربانوں سے

مدتوں بعد پوچھنے والو
ٹھیک ہوں آپ کی دعاؤں سے

ایک حصہ دعا میں رکھ لینا
تم وفا کرنا جانے والوں سے

اپنی آنکھوں کی روشنی رکھ کر
رنگ دیکھے تری نگاہوں سے

تیز آندھی کا شکریہ ورنہ
رہگزر اٹ گئی تھی خاروں سے

شہلا خان

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا