بن کے رستہ آرزو میں رہ گئے

بن کے رستہ آرزو میں رہ گئے
ہم کسی کی جستجو میں رہ گئے

کھو گئے ہیں پھول گردش میں کہیں
رنگ لیکن آبجو میں رہ گئے

ہو گئیں جب ختم باتیں تو کھلا
لفظ کتنے آرزو میں رہ گئے

لے گیا ہے کوئی یادوں کے ہرن
ہم اکیلے دشت ہو میں رہ گئے

نیند وحشت میں کہیں گم ہو گئی
خواب جتنے تھے لہو میں رہ گئے

کس پہ کھلتا پھر خزاں کا انتظار
دھیان سارے جب نمو میں رہ گئے

عثمان اقبال خان

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا