چراغ حوصلہ رکھیں شباب آئے گا

چراغ حوصلہ رکھیں شباب آئے گا
شکست شب کے لیے مہتاب آئے گا

کسے خبر تھی سمندر وجود کھو دیں گے
کسے خبر تھی یہاں بھی سراب آئے گا

یہ شاخ جس کو دبایا ہوا ہے پتھر نے
اسی پہ دیکھنا اک دن گلاب آئے گا

یہاں سے کوئی خسارا ہی لے کے لوٹے گا
اگر کبھی میری آنکھوں میں خواب آئے گا

یونہی نہیں ہیں مری وحشتیں سر صحرا
اسی سبب سے یہاں انقلاب آئے گا

رکا ہوا ہوں کنویں پر اس آس میں عثمان
مرا وجود سر سطح آب آئے گا

عثمان اقبال خان

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی