بجھانے میں ہواؤں کی

بجھانے میں ہواؤں کی شرارت کم نہیں ہوتی

مگر جلتے ہوئے دیپک کی شدت کم نہیں ہوتی

کوئی جا کے بتا دے ان ذرا نادان لوگو کو

لگانے سے کبھی پہرے محبت کم نہیں ہوتی

نشہ ایسا چڑھا الفت کا تیری مجھ پہ اے ہمدم

اگر میں چاہ لوں پھر بھی محبت کم نہیں ہوتی

میں سلجھاتی ہوں اک مشکل تو دوجی سامنے آئے

میری اس زندگی سے کیوں مصیبت کم نہیں ہوتی

جدھر دیکھوں وہیں چرچا ہے مندر اور مسجد کا

جہاں سے سوچتی ہوں کیوں جہالت کم نہیں ہوتی

یہی میں پرشن کرتی ہوں اکیلے بیٹھ کر جیوتیؔ

سبب کیا ہے زمانہ سے یے نفرت کم نہیں ہوتی

جیوتی آزاد کھتری

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان