محبت کی ہرگز نہیں ہار ہوگی

محبت کی ہرگز نہیں ہار ہوگی

بھلے لاکھ دنیا یہ دیوار ہوگی

محبت نہیں جرم کوئی جہاں میں

نظر میں وہ پھر کیوں خطا‌ وار ہوگی

بھلا چین کیسے مجھے آئے گا پھر

نہیں بیچ اپنے جو تکرار ہوگی

بھروسہ رکھوگے خدا پہ جو اپنے

تو کشتی سمندر سے بھی پار ہوگی

یہی میں نے اپنے بڑوں سے ہے سیکھا

نہیں حوصلوں کی کبھی ہار ہوگی

اس امید پر جی رہی ہے جیوتیؔ

کبھی تو غریبوں کی سرکار ہوگی

جیوتی آزاد کھتری

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان