بنے ہیں کام سب اُلجھن سے میرے

بنے ہیں کام سب اُلجھن سے میرے
یہی اطوار ہیں بچپن سے میرے

ہَوا بھی پوچھنے آتی نہیں اب
وہ خوشبو کیا گئی آنگن سے میرے

زمیں ہموار ہو کر رہ گئی ہے
اُڑی ہے دھُول وہ دامن سے میرے

سنو! اِس دشت کا ہم زاد ہوں میں
یہ واقف ہے اکیلے پن سے میرے

ہوائے بے دلی بھی خوب نکلی
خلش تک لے اُڑی جیون سے میرے

کاشف حسین غائر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان