بے قرار آنکھ میں بے زار ہیں مرے آنسو

بے قرار آنکھ میں بے زار ہیں مرے آنسو
تیرے دامن کے طلب گار ہیں مرے آنسو

یا ترے نقش گریزاں ہیں مری آنکھوں سے
یا مری راہ میں دیوار ہیں مرے آنسو

اپنے آنچل پہ سجانے کو ستارے نہ سمجھ
آگ ہی آگ ہے انگار ہیں مرے آنسو

شجاع شاذ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے