بارش

میں آوارہ بادل ہوں
تو ساون کی تیز ہوا

آؤ مل کر خوابوں کو تصویر کریں
جب تھک جائیں
قطرہ قطرہ
رم جھم رم جھم

خاک میں سوئی خوشبو کو بیدار کریں
رنگوں کو آزاد کریں!

میں آوارہ بادل ہوں
تو ساون کی تیز ہوا
مل کے بچھڑنا اپنی قسمت میں لکھا ہے!

سعید خان 

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے