بند گلی

چلتے چلتے ۔ ۔ ۔ خوابوں کی مستی سے چور
آخر یہ پُر شوق مسافت
چہروں کے جم گھٹ سے دور
ہم کو ایسی بند گلی میں لے آئی ہے
جس میں چین کے سائے سائے
ارمانوں کے ڈیرے ہیں
لیکن اس کوچے سے آگے
کوئی راہ نہیں جاتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

چاہو تو ہم لوٹ چلیں
بھیڑ میں ڈوبے ان رستوں پر
جن پر لمحہ لمحہ ہم کو
کھو جانے کا ڈر رہتا ہے
چاہو تو ہم رک جائیں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سعید خان 

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان