بڑھا رہے تھے تعلق تو ہم بڑھانے کو

بڑھا رہے تھے تعلق تو ہم بڑھانے کو
رکھا نہ پیشِ نظر دل کے ٹوٹ جانے کو

حقیقتوں سے کہاں باخبر رہا کوئی
تھی خود فریبی ہماری ہمیں لبھانے کو

کسی کے بس میں نہیں ہے کہ کچھ بگاڑ سکے
ستا رہا ہے زمانہ مگر ستانے کو

پناہ دیتی ہے ہم کو ہمیشہ تنہائی
کہ چھوڑتا نہیں کوئی کبھی ٹھکانے کو

بس اس کے سامنے چلتی نہیں ہماری بھی
وگرنہ بات بناتے ہیں ہم بنانے کو

وہ بات اس کو نہ جانے رُلا گئی کیسے
جو بات اس نے کہی تھی ہمیں ہنسانے کو

سعد اللہ شاہ

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل