بلا کا ضبط کیا، حوصلے سے چال چلی

بلا کا ضبط کیا، حوصلے سے چال چلی
گلو میں تیر تھا ، پر سامنے سے چال چلی

ہمارے بیچ کوئی تیسرا تو تھا ہی نہیں
سو ہم ہی دونوں نے اک دوسرے سے چال چلی

ضروری بات ہے ، کہہ کر ، اُسے قریب کیا
گلے لگانا تھا ، سو ، فاصلے سے چال چلی

ہنسی کی بات پہ ہونٹوں کو تھر تھرایا نہیں
سنا لطیفہ مگر ، قہقہے سے چال چلی

تمھارے بعد کسی دوسرے کو چھو کے دوست
تمھارے لمس کے ہر زائقے سے چال چلی

احمد آشنا

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی