خیال و خواب کے دفتر جگہ نہیں بنتی

خیال و خواب کے دفتر جگہ نہیں بنتی
کسی کی یاد ہے ازبر جگہ نہیں بنتی

نہ تیرے پاس سفارش ہے اور نہ پیسہ ہے
سو حکم یہ ہے کہ ، جا گھر ، جگہ نہیں بنتی

تری سَنَد پہ تو اشکوں کا اندراج نہیں
سو تیری عشق کے دفتر جگہ نہیں بنتی

اسی لیے میں تری بزم میں نہیں آتا
تری جگہ کے برابر جگہ نہیں بنتی

اُسی کے نام پہ اس دل کا انتقال ہے یار
سو اور کسی کی یہاں پر جگہ نہیں بنتی

شہید ہونے کی حسرت تھی پر خدا نے کہا
ہیں ” حُر” ملا کے ” بہتر” جگہ نہیں بنتی

احمد آشنا

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان