بجوکے

میں نے تمہاری یاد کو
کوئل کی چونچ کے ساتھ باندھ کر
تمہاری جانب روانہ کر دیا
بدلے میں تم نے
اداسی کے بجوکے مجھے بھیج دیے
اب وہ چھوٹے بڑے بجوکے
میری تنہائی کے بخیے ادھیڑتے ہیں
میں اپنی خاموشی اور بےچینی
گٹھری میں باندھ کر
نظموں کے سرہانے رکھ دیتی ہوں

اور شانت ہو جاتی ہوں
اور تم ؟؟؟

نجمہ منصور

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے