بڑے طریقے سے اک واردات

بڑے طریقے سے اک واردات ڈالی گئی
دعا کے ساتھ یہاں فال بھی نکالی گئی

میں شاعری میں نہیں سچ میں بولتا تھا سچ
اِسی لیے مری دستار تک اچھالی گئی

ہمارے ساتھ محبت میں حادثہ یہ ہوا
ہمارے دل کی وراثت نہیں سنبھالی گئی

تمھاری قید سے کیسے رہائی ممکن تھی
سو دل میں یاد تری سانس سانس پالی گئی

بنا فریم کے تصویر تھی جو کمرے میں
ہمارے بعد وہ تصویر تک ہٹا لی گئی

خیالِ یار میں کھویا تھا اِس قدر مرا دل
کہ اس کے بعد حقیقت میں بے خیالی گئی

کہا تھا اس نے مجھے میری بات سن فیصل
پھر اس کے بعد کوئی بات بھی نہ ٹالی گئی

فیصل شہزاد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے