بارش میں پہاڑ کی ایک شام

بہت تیز بارش ہے
کھڑکی کے شیشوں سے بوچھاڑ ٹکرا رہی ہے
اگر میز سے سب کتابیں ہٹا دوں تو چائے کے برتن رکھے جا سکیں گے

یہ بارش بھی کیسی عجب چیز ہے
یوں بیک وقت دل میں خوشی اور اداسی کسی اور شے سے کہاں
تم جو آؤ تو کھڑکی سے بارش کو اک ساتھ دیکھیں
ابھی تم جو آؤ تو میں تم سے پوچھوں کہ دل میں خوشی اور اداسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جانتی ہوں کہ تم کیا کہو گے

مری جان ‘
اک چیز ہے تیز بارش سے بھی تند
جس سے بیک وقت ملتی ہے دل کو خوشی اور اداسی
‘محبت

مگر تم کہاں ہو؟
یہاں سے وہاں رابطے کا کوئی بھی وسیلہ نہیں ہے
بہت تیز بارش ہے اور شام گہری ہوئی جا رہی ہے
نجانے تم آؤ نہ آؤ

میں اب شمع دانوں میں شمعیں جلا دوں
کہ آنکھیں بجھا دوں؟

ثمینہ راجہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے