اے دوست مِٹ گیا ہوں

اے دوست مِٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں ​
اس دردِ دوستی کی دوا ہو گیا ہوں میں ​

قائم کِیا ہے میں نے فنا کے وجود کو ​
دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں ​

نا آشنا ہیں رتبۂ دیوانگی سے دوست ​
کمبخت جانتے نہیں، کیا ہو گیا ہوں میں​

ہنسنے کا اعتبار، نہ رونے کا اعتبار​
کِیا زندگی ہے جس پہ فدا ہو گیا ہوں میں ​

ہمّت بُلند تھی مگر افتاد دیکھنا !​
چپ چاپ آج محوِ دُعا ہو گیا ہوں میں​

یہ زندگی فریبِ مسلسل نہ ہو کہیں​
شاید اسیرِ دامِ بَلا ہو گیا ہوں میں ​

اُٹّھا ہوں اک جہانِ خموشی لئے ہوئے​
ٹُوٹے ہوئے دِلوں کی صدا ہو گیا ہوں میں ​

حفیظ جالندھری ​

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے