اوائل جنوری

اوائل جنوری کی
یخ بستہ
دھند میں لپٹی شامیں
رگوں میں گردش
کرتا لہو
نقطہء انجماد
تک پہنچنے کو ہے
ایسے میں
فکرِ معاش میں سرگرداں
افراد کے لہو
کی حرارت انہیں
ایسی
زندگی کی نوید
سناتی ہے
جسے
نرم گرم بستر
میں خوابیدہ
آتش دانوں کی
حرارت
لینے والے
کبھی محسوس
نہیں کر سکتے

اسماء بتول

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے