آوارۂ غربت ہوں ٹھکانہ نہیں ملتا

آوارۂ غربت ہوں ٹھکانہ نہیں ملتا

ناوک ہوں مجھے کوئی نشانہ نہیں ملتا

جن لوگوں میں رہتا ہوں میں ان میں سے نہیں ہوں

ہوں کون مجھے اپنا زمانہ نہیں ملتا

دیوار تو اس دور میں ملتی ہے بہ ہر گام

لیکن تہ دیوار خزانہ نہیں ملتا

مدت سے ہے اشکوں کا تلاطم پس مژگاں

رونے کے لئے کوئی بہانہ نہیں ملتا

مدت سے تمنا ہے کہ یہ بوجھ اتاریں

مدت سے کوئی دوست پرانا نہیں ملتا

ہے رخش سبک سیر بہت عمر رواں کا

گر جائے کوئی شے تو اٹھانا نہیں ملتا

خورشید رضوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے