اور ہے اپنی کہانی اور ہے

اور ہے اپنی کہانی اور ہے
داستاں اس کو سنانی اور ہے

میں تو سویا تھا ستارے اوڑھ کر
یہ ردائے آسمانی اور ہے

ریگِ صحرا میں سفینہ کیا چلاؤں
اس سمندر کا تو پانی اور ہے

پھول بھی لیتا چلوں کچھ اپنے ساتھ
اس کی اک عادت پرانی اور ہے

اجنبی! اک پیڑ بھی ہے سامنے
اس کے گھر کی اک نشانی اور ہے

یوں دبائے جا رہا ہوں خواہشیں
جیسے اک عہدِ جوانی اور ہے

پار جانے کا ارادہ تھا عدیم
آج دریا کی روانی اور ہے

عدیم ہاشمی 

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے