اپنے کندھوں پہ مری لاش اٹھائی میں نے

اپنے کندھوں پہ مری لاش اٹھائی میں نے
راہ گیروں کو کہانی نہ سنائی میں نے

کینوس پر کئ رنگوں کا بدن چاٹ گئ
یہ جو تصویر اذیت کی بنائی میں نے

خامشی ہاتھ لگایا نہ کبھی سگریٹ کو
ہجر میں شور کی ماچس نہ جلائی میں نے

جانتا ہوں کہ نہیں مول یہ چھالوں کا, مگر
ماں کے ہاتھوں پہ دھری پہلی کمائی میں نے

آئنہ ٹوٹ گیا پباس کی شدت کے سبب
کب اسے جھیل دکھاوے کی دکھائی میں نے

کب تماشا ہوں بنا شہرِ تماشائی کا
دی کہاں ظرف کی دنیا کو صفائی میں نے

رات ارشاد سرِ دشت ہیولوں کے ساتھ
دیر تک رقص کیا خاک اڑائی میں نے

ارشاد نیازی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا