آپ کب مائلِ کرم نہ ہوئے

آپ کب مائلِ کرم نہ ہوئے
حادثات جہاں ہی کم نہ ہوئے

خیر ہو تیری کم نگاہی کی
ہم کبھی بے نیاز غم نہ ہوئے

آج ہی آئے سینکڑوں الزام
آج ہی انجمن میں ہم نہ ہوئے

لوح آزاد ہے قلم آزاد
پھر بھی کچھ حادثے رقم نہ ہوئے

شمع کی طرح ہم جلے باقیؔ
پھر بھی آگاہ راز غم نہ ہوئے

باقی صدیقی

Related posts

انسانیت

تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

مری زندگی تو فراق ہے