رک گئی برسات، ساغر تھم گئے

رک گئی برسات، ساغر تھم گئے
تھامنا اے ضبط الفت ہم گئے

کیا سمجھ سکتے وہ اسرار چمن
جو چمن میں صورت شبنم گئے

ایک عالم سرنگوں پایا گیا
جس طرف ہم لے کے تیرا غم گئے

غم کے ہیں یا ضبط غم کے ترجماں
اشک جو پلکوں پہ آ کر تھم گئے

اس کے آگے کیا ہوا باقیؔ نہ پوچھ
بارگاہ حسن تک تو ہم گئے

باقی صدیقی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان