مرحلے زیست کے آسان ہوئے

مرحلے زیست کے آسان ہوئے
شہر کچھ اور بھی ویران ہوئے

اس لگاؤ پہ ہے اک شخص سے لاگ
تھی نئی بات کہ حیران ہوئے

وہ نظر اٹھنے لگی دل کی طرف
حادثے اب مرے ارمان ہوئے

آپ کو ہم سے شکایت کیسی
ہم تو غافل ہوئے نادان ہوئے

دل وارفتہ کی باتیں باقیؔ
یاد کر کر کے پشیمان ہوئے

باقی صدیقی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان