اللہ رے غرور و ناز تیرا

اللہ رے غرور و ناز تیرا
مطلق نہیں ہم سے ساز تیرا

ہم سے کہ تجھی کو جانتے ہیں
جاتا نہیں احتراز تیرا

مل جن سے شراب تو پیے ہے
کہہ دیتے ہیں وہ ہی راز تیرا

کچھ عشق و ہوس میں فرق بھی کر
کیدھر ہے وہ امتیاز تیرا

کہتے نہ تھے میر مت کڑھاکر
دل ہو نہ گیا گداز تیرا

میر تقی میر

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل