اُخوّت نہیں ہے ، مُروّت نہیں ہے

اُخوّت نہیں ہے ، مُروّت نہیں ہے
تِرے دل میں کوئی مُحبّت نہیں ہے

وہ گھر ہے یا ہے قید خانہ جہاں سے
نکلنے کی تُجھ کو اجازت نہیں ہے

ہمیں یاد رکھنے کی زحمت نہ کرنا
تکلُّف کی کوئی ضرورت نہیں ہے

سُنا جو بھی کانوں نے سب جھوٹ نِکلا
جو آنکھوں نے دیکھا حقیقت نہیں ہے

اِلہٰی یہ کیوں ایسا وقت آ گیا ہے
کسی چیز میں کوئی لزّت نہیں ہے

اگر تُو ہے شرمندہ دل سے ، تو سُن لے
ہمارے بھی دل میں کدورت نہیں ہے

یہ آنکھیں تو “ شہناز “ پتھرا گئی ہیں
تُجھے دیکھنے کی اجازت نہیں ہے

 شہناز رضوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے