ایک دل کو ہزار داغ لگا

ایک دل کو ہزار داغ لگا
اندرونے میں جیسے باغ لگا

اس سے یوں گل نے رنگ پکڑا ہے
شمع سے جیسے لیں چراغ لگا

خوبی یک پیچہ بند خوباں کی
خوب باندھوں گا گر دماغ لگا

پائوں دامن میں کھینچ لیں گے ہم
ہاتھ گر گوشۂ فراغ لگا

میر اس بے نشاں کو پایا جان
کچھ ہمارا اگر سراغ لگا

میر تقی میر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان