عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا

عجیب دکھ ہے لبوں پر گلا کوئی بھی نہ تھا

بچھڑتے وقت کسی سے خفا کوئی بھی نہ تھا

ہر ایک شخص کو سچے حروف ازبر تھے

کسی کے پاس مگر معجزہ کوئی بھی نہ تھا

بہ نام حسن سبھی گفتگو کمال کی تھی

یہ اور بات سر آئنہ کوئی بھی نہ تھا

عذاب ذہن تھی اک مہر آب و دانے پر

ترے نگر میں خوشی سے رہا کوئی بھی نہ تھا

پس ضمیر عدالت سبھی کو حاصل تھی

مگر بوقت ضرورت کھرا کوئی بھی نہ تھا

قمر رضا شہزاد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے